اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا سیاسی وفد عراق میں اپنے ملک کا سفارت خانہ کھولنے کی غرض سے عراق کے دارالحکومت بغداد پہنچ گيا ہے ۔ عراق کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے حکام کے ایک وفد نے عبدالرحمن الشہری کی سربراہی میں گذشتہ روز بغداد پہنچ کرعراق کے نائب وزیر خارجہ نزار خیراللہ کے ساتھ ملاقات میں عراق کے شمالی شہراربیل میں سعودی عرب کا اور ریاض میں عراق کا سفارت خانہ کھولنے کے لئے مقدمات فراہم کرنے کے سلسلے میں گفتگو کی۔
عراق میں حالیہ مہینوں میں صدراورپارلیمنٹ کے سربراہوں اور وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد عراقی حکام کی طرف سے علاقے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں فروغ پر تاکید کے بعد سعودی عرب نے بھی عراقی حکام کی نئی روش کا خیرمقدم کرتے ہوئے بغداد کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے خاص طورپر عراق میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کے سلسلے میں اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔
البتہ سعودی عرب نے دوہزار بارہ میں فہد بن عبدالمحسن کو عراق میں غیر مقیم سفیر کی حیثيت سے متعارف کردیا تھا ۔ سعودی عرب اور عراق کے تعلقات 1990 میں کویت پر صدام کے حملے کے بعد منقطع ہوگئے ۔ عراق میں سعودی عرب کے آخری سفیر طراد عبدالحسین الحارثی تھے جو 1983سے 1990 تک عراق میں سفیر کی حیثيت سے مقیم تھے ۔
بہرحال سیاسی مبصرین عراق اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے بارے میں پیداہونے والے تحرک کو عراقی حکام منجملہ عراق کے صدراور پارلیمنٹ کے سربراہ کے پے درپے ریاض کے دورہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں خاص طورپر عراق کے مختلف علاقوں میں دہشت گردگروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان دہشت گردانہ کاروائیوں میں سعودی عرب کے کردار کے فاش ہونے کے بعد کشیدگی سے بھرا دور گذرا اور عراق میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں خاص طورپر نئی حکومت کے برسراقتدار آنےکے بعد کسی حد تک ان کشیدگیوں میں کمی واقع ہوگئي ہے ۔
درحقیقت عراقی حکام کا دورہ ایسے وقت انجام پایا کہ عراق کے صدر فواد معصوم ،وزیر اعظم حیدرالعبادی اور پارلیمنٹ کے سربراہ سلیم الجبوری عراق میں حالیہ مہینوں میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد بارہا تاکید کرچکے تھے کہ بغداد نے بعض عرب ممالک کے ساتھ اختلاف کے باوجود ان ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے ۔
سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کے حل کے بارے میں عراق نے اپنی خواہش کا ایسے حالات میں اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے بھی عراق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد غیرمتوقع طورپر عراق کے صدرفواد معصوم اور وزیر اعظم حید العبادی کو مبارک بادی کا پیغام ارسال کرکے عراق کے ساتھ ریاض کے تعلقات کی خواہش کا اعلان کردیا تھا ۔
اس طرح کے حالات سے ایسا لگتاہے کہ سعودی عرب جس کے صدام کی حکومت کے خاتمے سے قبل عراق کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے حالیہ برسوں میں علاقے کے حالات کے پیش نظر عراق کے ساتھ اپنی کشیدگی کو کم کرنا چاہتاہے۔
.......
/169